سَن ۱۲۵۸ میں ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی اور عباسی خلیفہ کی ذلت آمیز ہلاکت کے بعد ہلاکو خان کا اگلا نشانہ مصر اور پھر حجاز تھا۔
رکن الدین نے معرکہ عین جالوت میں منگولوں کو شکست دے کر اس بڑھتے طوفان کو بھی روک دیا اور امت مسلمہ کی ڈوبتی امیدوں کو سہارہ دیا اور از سر نو خلافت کے ادارے کو استوار کیا۔
اس عظیم فاتح نے محض ٥٤ برس عمر پائی، لیکن اس بظاہر مختصر سے عمر میں اللہ کی توفیق سے کیا کچھ معرکے سرانجام دیے یہ ایک لمبی کہانی ہیں۔

بقول اقبال:
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
ضمنی طور پر یہ دلچسپ حقیقت جان لیجیے کہ جب ۱۲۵۸ میں بغداد میں خلافت پامال ہو رہی تھی تو مشیت ایزدی سے اسی سال ‘عثمان غازی’ کی پیدائش ہو رہی تھی جو آگے چل کر ‘سلطنت عثمانیہ’ کا بانی بننے والا تھا۔
آئیے اپنی اس مایہ ناز تاریخ کے ان سالوں میں سفر کریں جب امت پر زبوں حالی، ناامیدی اور کم ہمتی کے گہرے سائے چاروں طرف سے چھا رہے تھے، تو ہمیشہ کی طرح مایوسی اور ناامیدی کو کفر جاننے والی اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا ایک جاں نثار اندھیرے راستوں میں نئی شمعیں روشن کر رہا تھا۔
No Comments Yet